History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu ^hot^ Today

سر سید نے واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔

انتظامی بنیادوں پر بنگال کی تقسیم جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا لیکن ہندوؤں کی مخالفت کی وجہ سے 1911 میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد، برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا: ہندوستان اور پاکستان۔ پاکستان میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان شامل تھے۔

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس ہوا۔

کانگریسی دور میں مسلمانوں پر مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، بندے ماترم کا ترانہ لازمی قرار دیا گیا، اور گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ آزاد وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ قائد اعظم نے صدارتی خطبہ دیا۔

حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے برصغیر کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں (پنجاب، سندھ، بلوچستان، اور خیبر پختونخوا) پر مشتمل ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔

یہاں پاکستان کی تاریخ (1857ء سے 1947ء) کے عنوان پر ایک مکمل مضمون درج ذیل ہے۔ یہ مضمون اس دور کے اہم واقعات اور سیاسی تبدیلیوں کو احاطہ کرتا ہے۔

3۔ انڈین نیشنل کانگریس کا قیام (1885ء) سر سید نے واضح کیا کہ ہندو اور

برطانوی حکومت اور مسلمانوں کے درمیان وفاداری کے جذبات پیدا کرنا اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا۔ 4۔ میثاقِ لکھنؤ (1916ء)

بنیاد 1857ء کے بعد مضبوط ہوئی۔ جداگانہ انتخابات: 1906ء (شملہ وفد)۔ قراردادِ لاہور: 23 مارچ 1940ء۔

مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا، حکومت کے سامنے مسلمانوں کے مطالبات رکھنا اور دیگر قوموں کے ساتھ تعاون بڑھانا۔ 7۔ میثاقِ لکھنؤ (1916ء)

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی انتھک کوششوں سے مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu

برطانوی پارلیمنٹ نے اس قانون کے تحت برصغیر کو دو آزاد مملکتوں (پاکستان اور بھارت) میں تقسیم کرنے کی منظوری دی۔

ڈھاکہ میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی۔

1857ء میں برصغیر کے مقامی لوگوں نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف پہلی بڑی مسلح بغاوت کی۔

مسلسل جدوجہد، 1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی اور قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت کے نتیجے میں برطانیہ کو برصغیر کی تقسیم پر مجبور ہونا پڑا۔ بالاآخر دنیا کے نقشے پر پہلی نظریاتی اسلامی ریاست "پاکستان" کی صورت میں ابھری۔